اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سامان کی ترسیل سے متعلق اعداد و شمار اور آزاد ذرائع میں موجود دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ایئرلائنز نے صیہونی حکومت کے لیے مختص فوجی سازوسامان اور اس کے اسپیئر پارٹس کی ترسیل غیر فوجی مسافر پروازوں کے ذریعے دوبارہ شروع کر دی ہے۔
یہ اقدام 6 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ یہ تعطل ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی جنگ شروع ہونے کے بعد براہِ راست پروازیں معطل کیے جانے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
امریکی ویب سائٹ ’’انٹرسیپٹ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، ان فوجی سامان کی ترسیل کا دوبارہ آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب ’’موومنٹ ریسرچ یونٹ‘‘، ’’فلسطینی یوتھ موومنٹ‘‘، ’’پاپولر بائیکاٹ فار فلسطین‘‘ اور ’’امریکن ڈیموکریٹک سوشلسٹس‘‘ نامی قانونی اور تحقیقی اداروں نے ایک وسیع تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے۔
اس رپورٹ میں غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکا سے صیہونی حکومت کو ہزاروں فوجی سامان کی خفیہ ترسیل کے عمل کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
رپورٹ میں موجود اعداد و شمار کے مطابق، محققین نے مجموعی طور پر 2 ہزار 761 فوجی سامان کی ترسیل کی نشاندہی کی ہے جو صیہونی حکومت کے اسلحہ ساز اداروں کو بھیجی گئی تھیں۔ یہ سامان 24 جولائی 2025 سے 27 فروری 2026 کے درمیان مذکورہ امریکی فضائی کمپنی کی 160 غیر فوجی مسافر پروازوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ یہ تعداد سات ماہ کے دوران تقریباً 3 ہزار فوجی سامان کی ترسیل کے برابر ہے۔
546 مخصوص سامان کی ترسیل کے نمونے کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 131 میں لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کے اسپیئر پارٹس شامل تھے۔
67 سامان میں دیگر جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے پرزے شامل تھے، جبکہ 28 سامان میں ٹینکوں کے اسپیئر پارٹس، ہدف بنانے کے نظام اور توپ خانے کے ڈسپلے شامل تھے۔
اس کے علاوہ 100 سے زائد سامان میں مواصلاتی آلات، ریڈیو، ہیلمٹ پر نصب ڈسپلے اور دیگر فنی و حساس آلات شامل تھے۔
آپ کا تبصرہ